پا[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - پاؤ کی تخفیف، ترکیب میں جزو دوم کے طور پر مستعمل جیسے؛ آدھ پا، ڈیڑھ پا، سواپا اور پون پا۔ "پھر گھی کھپانے میں وہ کمال کہ پاو سیر آٹے میں ڈیڑھ پا گھی کھپا دیں۔"      ( ١٩٤٣ء، دلی کی چند عجیب ہستیاں، ٦٦ )

اشتقاق

سنسکرت الاصل لفظ 'پاد' سے اردو میں ماخوذ اسم 'پاو' کی تخفیف 'پا' اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور ١٩٤٣ء کو "دلی کی چند عجیب ہستیاں" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پاؤ کی تخفیف، ترکیب میں جزو دوم کے طور پر مستعمل جیسے؛ آدھ پا، ڈیڑھ پا، سواپا اور پون پا۔ "پھر گھی کھپانے میں وہ کمال کہ پاو سیر آٹے میں ڈیڑھ پا گھی کھپا دیں۔"      ( ١٩٤٣ء، دلی کی چند عجیب ہستیاں، ٦٦ )

اصل لفظ: پاد
جنس: مذکر